نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہومیوپیتھی میں مزمن امراض اور مایازمی نظریہ

ہومیوپیتھی میں مزمن امراض اور مایازمی نظریہ
ہومیوپیتھی میں "مزمن بیماریوں" (Chronic Diseases) کے علاج کا بنیادی اصول "مایازمز" (Miasms) کے نظریے پر مبنی ہے، جو ڈاکٹر سیموئیل ہانیمین نے اپنے طبی تجربات کی بنیاد پر پیش کیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ محض علامات کی بنیاد پر دوائیں دینے سے اکثر مریضوں کو صرف عارضی آرام ملتا ہے، جبکہ بیماری کی جڑ جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ اس بنیاد پر ہانیمین نے تین بنیادی مایازمز بیان کیے:
سورا (Psora)، 
سفلس (Syphilis) 
اور سائی کوسس (Sycosis)
سورا (Psora) – تمام غیر وینیرئل مزمن بیماریوں کی جڑ
ہانیمین کے مطابق "سورا" وہ بنیادی مایازم ہے جو تمام غیر وینیرئل (Non-venereal) مزمن بیماریوں کی جڑ ہے۔ یہ ایک "دائمی خارش" کی دبی ہوئی حالت ہے، جو کئی نسلوں سے منتقل ہو کر مختلف بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہانیمین نے کہا کہ جب تک اس بنیادی مایازم کو "اینٹی پسورک" (Anti-Psoric) دواؤں سے ختم نہ کیا جائے، بیماری کا مستقل علاج ممکن نہیں۔ پسورا جسم میں مختلف جلدی امراض، الرجی، ہاضمے کی خرابیاں، جوڑوں کے مسائل، ذہنی دباؤ اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ 
 
سفلس (Syphilis) – ٹشو کی تباہی اور زخموں کی بیماری
 
یہ مایازم وینیرئل بیماری "سفلس" کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور بنیادی طور پر جسم کے بافتوں (Tissues) کو تباہ کرتا ہے۔ اس کی نمایاں علامات میں نہ بھرنے والے زخم، گینگرین، شدید اعصابی بیماریاں، ذہنی عدم توازن اور جسمانی نظام کی خرابی شامل ہیں۔ اس کا علاج "اینٹی سفلٹک" (Anti-Syphilitic) دواؤں سے کیا جاتا ہے۔
سائی کوسس (Sycosis) – رسولیاں، مسے اور غیر معمولی نشوونما
یہ مایازم وینیرئل بیماری "گونوریا" (Gonorrhoea) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور عام طور پر غیر معمولی بڑھوتری (Overgrowth) سے جُڑا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم پر مسے، گومڑ، جلد کی غیر معمولی سختی، ہڈیوں میں کیلشیم کی زیادتی، موٹاپا، گٹھیا (Arthritis) اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اس کا علاج "اینٹی سائکوٹک" (Anti-Sycotic) دواؤں سے کیا جاتا ہے۔
مایازمز کا وراثتی اثر
ہانیمین کے مطابق، یہ مایازمز صرف متاثرہ فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بیماریوں کا علاج وقتی طور پر کرنے کے باوجود وہ دوبارہ نمودار ہو جاتی ہیں۔
ہومیوپیتھی میں مزمن بیماریوں کا علاج
ہومیوپیتھی میں مزمن بیماریوں کا مستقل علاج صرف ان کے بنیادی مایازمز کو ختم کر کے ممکن ہے۔ اگر محض علامات کو دبایا جائے تو بیماری کسی اور شکل میں دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہومیوپیتھک معالج مایازم کو مدنظر رکھتے ہوئے دوا تجویز کرتا ہے تاکہ بیماری کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
ہانیمین کا یہ نظریہ آج بھی ہومیوپیتھی کی بنیاد ہے اور دنیا بھر میں اس پر عمل کیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں مریض شفایاب ہو رہے ہیں۔
 https://www.facebook.com/profile.php?id=61572895461561

 
 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے

 https://www.facebook.com/share/p/1DSFVEsSgP/   کینسر ایک مزاجی بیماری ہے — ہومیوپیتھک فلسفے کی روشنی میں تحریر: ڈاکٹر سید محمد سراج ہومیوپیتھک فلسفہ بیماریوں کو صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی مجموعی کیفیت، اس کی مزاجی ساخت، نفسیاتی اور روحانی حالت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ہانیمن کے نزدیک بیماری صرف جسم میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک باطنی حیاتیاتی توانائی (vital force) کی بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم کینسر جیسے مہلک مرض کا جائزہ لیں، تو یہ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مزاجی خلل کا اظہار ہے۔ مزاجی بیماری کیا ہے؟ ہومیوپیتھی میں "مزاجی بیماری" (Miasmatic disease) وہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، یا جو انسان کی باطنی توانائی میں خرابی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ہانیمن نے تین بنیادی مزاجی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: سورا، سفلس، اور سائکو سس۔ ان تینوں میں سے کسی ایک یا ان کے امتزاج کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کینسر اور مزاجی بنیاد کینسر کی جڑیں ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق گہرے مزاجی نقائص میں پیوستہ ہیں،...

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm)

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm) ایک بنیادی تصور ہے جو بیماریوں کے گہرے اور جینیاتی رجحان (predisposition) کی وضاحت کرتا ہے۔  ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق، میازم وہ اندرونی خرابی یا وراثتی رجحان ہے جو کسی شخص کو مخصوص بیماریوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں میازم کی اقسام ہومیوپیتھی میں تین بنیادی میازم ہیں، جنہیں ڈاکٹر سیموئل ہینی مین (ہومیوپیتھی کے بانی) نے بیان کیا: سورک میازم (Psoric Miasm) یہ سب سے پرانا اور بنیادی میازم سمجھا جاتا ہے۔ علامات: خارش، جلدی بیماریاں، الرجی، دائمی کمزوری، اور نظامِ ہضم کی خرابیاں۔ اس کا تعلق عام طور پر کھجلی (Scabies) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Sulphur, Psorinum, Lycopodium, Graphites وغیرہ۔ سائکوٹک میازم (Sycotic Miasm) اس میازم کا تعلق زیادہ تر جسمانی بڑھوتری، رسولیوں، ورم اور گٹھیا (arthritis) جیسی بیماریوں سے ہے۔ علامات: موٹاپا، ہارمونز کی بے ترتیبی، جنسی مسائل، ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل۔ اس کا تعلق گونوریا (Gonorrhea) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Thuja, Medorrhinum, Natrum Sulph, Pulsatilla وغیرہ۔ سفیلٹک میازم (Syphilitic Miasm) یہ سب ...

ہومیوپیتھی اور ذہنی و روحانی پہلو

  🧠 ہومیوپیتھی اور ذہنی و روحانی پہلو ہومیوپیتھی صرف جسمانی علامات کا علاج نہیں کرتی بلکہ: ذہنی کیفیت (Mental State) : مثلاً اداسی، غصہ، ڈر، شرمیلا پن، خوف وغیرہ – دوا کا انتخاب مریض کی اس وقت کی جذباتی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ روحانی اثرات (Spiritual Aspects) : بعض ماہرین ہومیوپیتھی کا ماننا ہے کہ درست دوا انسان کے اندرونی توازن کو بحال کرتی ہے، جو روحانی سکون کی طرف لے جاتی ہے۔ نیند اور خوابوں کی حالت بھی دوا کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی مریض سانپ کے خواب دیکھتا ہو تو اس کی بنیاد پر "Lachesis" تجویز کی جا سکتی ہے۔ 👨‍⚕️ مریض سے کیس لینا (Case Taking) ہومیوپیتھی میں مریض سے صرف بیماری کی علامات نہیں بلکہ درج ذیل معلومات لی جاتی ہیں: جذباتی حالت (مثلاً غصہ، خوف، حساسیت) کھانے کی پسند/ناپسند موسم سے اثر (گرمی، سردی، بارش) نیند کی کیفیت جسمانی علامات بچپن، حادثات یا صدمات کی تاریخ