نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے،

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے ،  کیونکہ یہ علاج صرف علامات کو دبانے کے بجائے انسان کے ذہن، جسم اور جذبات تینوں پہلوؤں کو متوازن کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں علاج کا اصول یہ ہے کہ ہر مریض کو اس کی مکمل علامات، طبی تاریخ، مزاج اور طرزِ زندگی کے مطابق انفرادی دوا دی جاتی ہے، اس لیے یہ علاج گہری سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذہنی امراض جن میں ہومیوپیتھی مفید ہے: ڈپریشن (Depression) بے چینی اور خوف (Anxiety, Phobia) ماضی کے صدمے کے اثرات (Post-Traumatic Stress) یادداشت کی کمزوری نیند کے مسائل چڑچڑاپن، غصہ یا اداسی ہومیوپیتھی کے فائدے: قدرتی اور محفوظ – کوئی خطرناک سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔ گہرائی میں علاج – بیماری کی جڑ تک پہنچ کر شفا دیتی ہے۔ شخصیت میں مثبت تبدیلی – مریض کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔ طویل المدتی فائدہ – علامات واپس آنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اہم ہومیوپیتھک ادویات اور ان کے ذہنی امراض میں استعمال کی فہرست بھی دے سکتا ہوں، تاکہ ایک جامع ریفرنس بن جائے۔ Ask ChatG...

ہومیوپیتھی میں مزمن امراض اور مایازمی نظریہ

ہومیوپیتھی میں مزمن امراض اور مایازمی نظریہ
ہومیوپیتھی میں "مزمن بیماریوں" (Chronic Diseases) کے علاج کا بنیادی اصول "مایازمز" (Miasms) کے نظریے پر مبنی ہے، جو ڈاکٹر سیموئیل ہانیمین نے اپنے طبی تجربات کی بنیاد پر پیش کیا۔ انہوں نے دریافت کیا کہ محض علامات کی بنیاد پر دوائیں دینے سے اکثر مریضوں کو صرف عارضی آرام ملتا ہے، جبکہ بیماری کی جڑ جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ اس بنیاد پر ہانیمین نے تین بنیادی مایازمز بیان کیے:
سورا (Psora)، 
سفلس (Syphilis) 
اور سائی کوسس (Sycosis)
سورا (Psora) – تمام غیر وینیرئل مزمن بیماریوں کی جڑ
ہانیمین کے مطابق "سورا" وہ بنیادی مایازم ہے جو تمام غیر وینیرئل (Non-venereal) مزمن بیماریوں کی جڑ ہے۔ یہ ایک "دائمی خارش" کی دبی ہوئی حالت ہے، جو کئی نسلوں سے منتقل ہو کر مختلف بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہانیمین نے کہا کہ جب تک اس بنیادی مایازم کو "اینٹی پسورک" (Anti-Psoric) دواؤں سے ختم نہ کیا جائے، بیماری کا مستقل علاج ممکن نہیں۔ پسورا جسم میں مختلف جلدی امراض، الرجی، ہاضمے کی خرابیاں، جوڑوں کے مسائل، ذہنی دباؤ اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ 
 
سفلس (Syphilis) – ٹشو کی تباہی اور زخموں کی بیماری
 
یہ مایازم وینیرئل بیماری "سفلس" کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور بنیادی طور پر جسم کے بافتوں (Tissues) کو تباہ کرتا ہے۔ اس کی نمایاں علامات میں نہ بھرنے والے زخم، گینگرین، شدید اعصابی بیماریاں، ذہنی عدم توازن اور جسمانی نظام کی خرابی شامل ہیں۔ اس کا علاج "اینٹی سفلٹک" (Anti-Syphilitic) دواؤں سے کیا جاتا ہے۔
سائی کوسس (Sycosis) – رسولیاں، مسے اور غیر معمولی نشوونما
یہ مایازم وینیرئل بیماری "گونوریا" (Gonorrhoea) کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور عام طور پر غیر معمولی بڑھوتری (Overgrowth) سے جُڑا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم پر مسے، گومڑ، جلد کی غیر معمولی سختی، ہڈیوں میں کیلشیم کی زیادتی، موٹاپا، گٹھیا (Arthritis) اور دیگر بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اس کا علاج "اینٹی سائکوٹک" (Anti-Sycotic) دواؤں سے کیا جاتا ہے۔
مایازمز کا وراثتی اثر
ہانیمین کے مطابق، یہ مایازمز صرف متاثرہ فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بیماریوں کا علاج وقتی طور پر کرنے کے باوجود وہ دوبارہ نمودار ہو جاتی ہیں۔
ہومیوپیتھی میں مزمن بیماریوں کا علاج
ہومیوپیتھی میں مزمن بیماریوں کا مستقل علاج صرف ان کے بنیادی مایازمز کو ختم کر کے ممکن ہے۔ اگر محض علامات کو دبایا جائے تو بیماری کسی اور شکل میں دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہومیوپیتھک معالج مایازم کو مدنظر رکھتے ہوئے دوا تجویز کرتا ہے تاکہ بیماری کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
ہانیمین کا یہ نظریہ آج بھی ہومیوپیتھی کی بنیاد ہے اور دنیا بھر میں اس پر عمل کیا جا رہا ہے، جس سے ہزاروں مریض شفایاب ہو رہے ہیں۔
 https://www.facebook.com/profile.php?id=61572895461561

 
 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm)

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm) ایک بنیادی تصور ہے جو بیماریوں کے گہرے اور جینیاتی رجحان (predisposition) کی وضاحت کرتا ہے۔  ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق، میازم وہ اندرونی خرابی یا وراثتی رجحان ہے جو کسی شخص کو مخصوص بیماریوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں میازم کی اقسام ہومیوپیتھی میں تین بنیادی میازم ہیں، جنہیں ڈاکٹر سیموئل ہینی مین (ہومیوپیتھی کے بانی) نے بیان کیا: سورک میازم (Psoric Miasm) یہ سب سے پرانا اور بنیادی میازم سمجھا جاتا ہے۔ علامات: خارش، جلدی بیماریاں، الرجی، دائمی کمزوری، اور نظامِ ہضم کی خرابیاں۔ اس کا تعلق عام طور پر کھجلی (Scabies) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Sulphur, Psorinum, Lycopodium, Graphites وغیرہ۔ سائکوٹک میازم (Sycotic Miasm) اس میازم کا تعلق زیادہ تر جسمانی بڑھوتری، رسولیوں، ورم اور گٹھیا (arthritis) جیسی بیماریوں سے ہے۔ علامات: موٹاپا، ہارمونز کی بے ترتیبی، جنسی مسائل، ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل۔ اس کا تعلق گونوریا (Gonorrhea) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Thuja, Medorrhinum, Natrum Sulph, Pulsatilla وغیرہ۔ سفیلٹک میازم (Syphilitic Miasm) یہ سب ...

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے

 https://www.facebook.com/share/p/1DSFVEsSgP/   کینسر ایک مزاجی بیماری ہے — ہومیوپیتھک فلسفے کی روشنی میں تحریر: ڈاکٹر سید محمد سراج ہومیوپیتھک فلسفہ بیماریوں کو صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی مجموعی کیفیت، اس کی مزاجی ساخت، نفسیاتی اور روحانی حالت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ہانیمن کے نزدیک بیماری صرف جسم میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک باطنی حیاتیاتی توانائی (vital force) کی بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم کینسر جیسے مہلک مرض کا جائزہ لیں، تو یہ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مزاجی خلل کا اظہار ہے۔ مزاجی بیماری کیا ہے؟ ہومیوپیتھی میں "مزاجی بیماری" (Miasmatic disease) وہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، یا جو انسان کی باطنی توانائی میں خرابی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ہانیمن نے تین بنیادی مزاجی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: سورا، سفلس، اور سائکو سس۔ ان تینوں میں سے کسی ایک یا ان کے امتزاج کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کینسر اور مزاجی بنیاد کینسر کی جڑیں ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق گہرے مزاجی نقائص میں پیوستہ ہیں،...

میازم‘ کی نئی تعریف

 ’ میازم‘ کی نئی تعریف ہومیوپیتھی میں ’دائمی امراض‘ کے فہم اور علاج کا بنیادی نظریہ ’میازم‘ کے تصور پر مبنی ہے۔ حنیمن نے تین بنیادی ’میازم‘ یعنی سورہ، سفلس اور سائیکوسس کی تفصیل فراہم کی۔ ’میازم‘ اور ’دائمی امراض‘ کا نظریہ حنیمن کی زندگی کے آخری حصے میں سامنے آیا، جب انہوں نے اپنے طبی تجربے سے یہ جانا کہ صرف ظاہری علامات کی بنیاد پر دوائی تجویز کرنے سے مریضوں کو مستقل فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ یہ محض عارضی آرام فراہم کرتا ہے۔ میازم کا مفہوم حنیمن کے ’دائمی امراض‘ کے نظریے کے مطابق، ’سورہ‘ یعنی دبے ہوئے خارش کے اثرات، ہر اس دائمی بیماری کی جڑ ہیں جو جنسی امراض (Venereal Diseases) سے متعلق نہ ہو۔ سورہ کو علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ دیگر دو میازم، سفلس اور سائیکوسس، بالترتیب سفلس اور سوزاک (gonorrhoea) جیسی بیماریوں سے جڑے ہیں۔ حنیمن کے مطابق، جب تک سورہ کو ’اینٹی سورک‘ دواؤں کے ذریعے ختم نہ کیا جائے، دائمی بیماریوں کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ سورہ کی ابتدائی علامات میں جلد پر خارش اور دانے شامل ہوتے ہیں، جبکہ سفلس میں ناسور اور جلد کی بگاڑ، اور سائیکوسس میں مسے اور چمڑے کی زائد ...