نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے،

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے ،  کیونکہ یہ علاج صرف علامات کو دبانے کے بجائے انسان کے ذہن، جسم اور جذبات تینوں پہلوؤں کو متوازن کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں علاج کا اصول یہ ہے کہ ہر مریض کو اس کی مکمل علامات، طبی تاریخ، مزاج اور طرزِ زندگی کے مطابق انفرادی دوا دی جاتی ہے، اس لیے یہ علاج گہری سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذہنی امراض جن میں ہومیوپیتھی مفید ہے: ڈپریشن (Depression) بے چینی اور خوف (Anxiety, Phobia) ماضی کے صدمے کے اثرات (Post-Traumatic Stress) یادداشت کی کمزوری نیند کے مسائل چڑچڑاپن، غصہ یا اداسی ہومیوپیتھی کے فائدے: قدرتی اور محفوظ – کوئی خطرناک سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔ گہرائی میں علاج – بیماری کی جڑ تک پہنچ کر شفا دیتی ہے۔ شخصیت میں مثبت تبدیلی – مریض کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔ طویل المدتی فائدہ – علامات واپس آنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اہم ہومیوپیتھک ادویات اور ان کے ذہنی امراض میں استعمال کی فہرست بھی دے سکتا ہوں، تاکہ ایک جامع ریفرنس بن جائے۔ Ask ChatG...

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے

 https://www.facebook.com/share/p/1DSFVEsSgP/

 

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے — ہومیوپیتھک فلسفے کی روشنی میں
تحریر: ڈاکٹر سید محمد سراج
ہومیوپیتھک فلسفہ بیماریوں کو صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی مجموعی کیفیت، اس کی مزاجی ساخت، نفسیاتی اور روحانی حالت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ہانیمن کے نزدیک بیماری صرف جسم میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک باطنی حیاتیاتی توانائی (vital force) کی بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم کینسر جیسے مہلک مرض کا جائزہ لیں، تو یہ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مزاجی خلل کا اظہار ہے۔
مزاجی بیماری کیا ہے؟
ہومیوپیتھی میں "مزاجی بیماری" (Miasmatic disease) وہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، یا جو انسان کی باطنی توانائی میں خرابی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ہانیمن نے تین بنیادی مزاجی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: سورا، سفلس، اور سائکو سس۔ ان تینوں میں سے کسی ایک یا ان کے امتزاج کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔
کینسر اور مزاجی بنیاد
کینسر کی جڑیں ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق گہرے مزاجی نقائص میں پیوستہ ہیں، خاص طور پر سائکو سس اور سفلس مزاج کا امتزاج اکثر کینسر کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔ سائکو سس میں جسمانی ساخت میں اضافہ، گٹھلیاں، رسولیاں، اور غیر معمولی نمو دیکھی جاتی ہے، جب کہ سفلس مزاج جسم کو اندر سے تباہ کرتا ہے، سوزش، سڑن اور تباہی اس کی علامات میں شامل ہیں۔
کینسر صرف جسم کی بیماری نہیں
کینسر کا آغاز جسم میں کسی خلیے کی بے قابو تقسیم سے ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ خلیہ کیوں بے قابو ہوتا ہے؟ ہومیوپیتھک نظریے کے مطابق یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی vital force میں گہرے درجے کی خرابی واقع ہو چکی ہو۔ یہ خرابی اکثر طویل عرصے کے جذباتی صدمات، دبے ہوئے جذبات، وراثتی مزاجی بیماریوں، یا بار بار دافع مرض ادویات کے استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔
ہومیوپیتھک علاج: مزاج کی درستی
ہومیوپیتھک علاج کا مقصد صرف کینسر کی رسولی یا علامات کو ختم کرنا نہیں، بلکہ اس مزاجی خلل کو درست کرنا ہے جو اس مہلک مرض کا اصل سبب ہے۔ ایک ہومیوپیتھک معالج مریض کی مکمل ہسٹری لیتا ہے — اس کے جذبات، خوف، خواب، وراثت، اور زندگی کے نشیب و فراز — تاکہ اس مزاج تک رسائی حاصل کی جا سکے جو کینسر کے پیچھے پوشیدہ ہے۔
کینسر کو اگر صرف جسمانی سطح پر سمجھا جائے تو ہم اس کا صرف ایک پہلو دیکھ پاتے ہیں۔ ہومیوپیتھک فلسفہ ہمیں اس کی گہرائی میں لے جاتا ہے، جہاں یہ مرض ایک مزاجی خرابی کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ اگر ہم انسان کو ایک مکمل اکائی کے طور پر دیکھیں — جسم، ذہن اور روح — تو ہم نہ صرف کینسر بلکہ تمام بیماریوں کا زیادہ مؤثر اور پائیدار علاج کر سکتے ہیں۔

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm)

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm) ایک بنیادی تصور ہے جو بیماریوں کے گہرے اور جینیاتی رجحان (predisposition) کی وضاحت کرتا ہے۔  ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق، میازم وہ اندرونی خرابی یا وراثتی رجحان ہے جو کسی شخص کو مخصوص بیماریوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں میازم کی اقسام ہومیوپیتھی میں تین بنیادی میازم ہیں، جنہیں ڈاکٹر سیموئل ہینی مین (ہومیوپیتھی کے بانی) نے بیان کیا: سورک میازم (Psoric Miasm) یہ سب سے پرانا اور بنیادی میازم سمجھا جاتا ہے۔ علامات: خارش، جلدی بیماریاں، الرجی، دائمی کمزوری، اور نظامِ ہضم کی خرابیاں۔ اس کا تعلق عام طور پر کھجلی (Scabies) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Sulphur, Psorinum, Lycopodium, Graphites وغیرہ۔ سائکوٹک میازم (Sycotic Miasm) اس میازم کا تعلق زیادہ تر جسمانی بڑھوتری، رسولیوں، ورم اور گٹھیا (arthritis) جیسی بیماریوں سے ہے۔ علامات: موٹاپا، ہارمونز کی بے ترتیبی، جنسی مسائل، ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل۔ اس کا تعلق گونوریا (Gonorrhea) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Thuja, Medorrhinum, Natrum Sulph, Pulsatilla وغیرہ۔ سفیلٹک میازم (Syphilitic Miasm) یہ سب ...

میازم‘ کی نئی تعریف

 ’ میازم‘ کی نئی تعریف ہومیوپیتھی میں ’دائمی امراض‘ کے فہم اور علاج کا بنیادی نظریہ ’میازم‘ کے تصور پر مبنی ہے۔ حنیمن نے تین بنیادی ’میازم‘ یعنی سورہ، سفلس اور سائیکوسس کی تفصیل فراہم کی۔ ’میازم‘ اور ’دائمی امراض‘ کا نظریہ حنیمن کی زندگی کے آخری حصے میں سامنے آیا، جب انہوں نے اپنے طبی تجربے سے یہ جانا کہ صرف ظاہری علامات کی بنیاد پر دوائی تجویز کرنے سے مریضوں کو مستقل فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ یہ محض عارضی آرام فراہم کرتا ہے۔ میازم کا مفہوم حنیمن کے ’دائمی امراض‘ کے نظریے کے مطابق، ’سورہ‘ یعنی دبے ہوئے خارش کے اثرات، ہر اس دائمی بیماری کی جڑ ہیں جو جنسی امراض (Venereal Diseases) سے متعلق نہ ہو۔ سورہ کو علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ دیگر دو میازم، سفلس اور سائیکوسس، بالترتیب سفلس اور سوزاک (gonorrhoea) جیسی بیماریوں سے جڑے ہیں۔ حنیمن کے مطابق، جب تک سورہ کو ’اینٹی سورک‘ دواؤں کے ذریعے ختم نہ کیا جائے، دائمی بیماریوں کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ سورہ کی ابتدائی علامات میں جلد پر خارش اور دانے شامل ہوتے ہیں، جبکہ سفلس میں ناسور اور جلد کی بگاڑ، اور سائیکوسس میں مسے اور چمڑے کی زائد ...