نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے،

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے ،  کیونکہ یہ علاج صرف علامات کو دبانے کے بجائے انسان کے ذہن، جسم اور جذبات تینوں پہلوؤں کو متوازن کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں علاج کا اصول یہ ہے کہ ہر مریض کو اس کی مکمل علامات، طبی تاریخ، مزاج اور طرزِ زندگی کے مطابق انفرادی دوا دی جاتی ہے، اس لیے یہ علاج گہری سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذہنی امراض جن میں ہومیوپیتھی مفید ہے: ڈپریشن (Depression) بے چینی اور خوف (Anxiety, Phobia) ماضی کے صدمے کے اثرات (Post-Traumatic Stress) یادداشت کی کمزوری نیند کے مسائل چڑچڑاپن، غصہ یا اداسی ہومیوپیتھی کے فائدے: قدرتی اور محفوظ – کوئی خطرناک سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔ گہرائی میں علاج – بیماری کی جڑ تک پہنچ کر شفا دیتی ہے۔ شخصیت میں مثبت تبدیلی – مریض کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔ طویل المدتی فائدہ – علامات واپس آنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اہم ہومیوپیتھک ادویات اور ان کے ذہنی امراض میں استعمال کی فہرست بھی دے سکتا ہوں، تاکہ ایک جامع ریفرنس بن جائے۔ Ask ChatG...

اینٹی باڈیز اور جینیاتی اثرات


اینٹی باڈیز کا وراثتی (Genetic) اثر

یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ اینٹی باڈیز ماں کے خون کے ذریعے بچے کو منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مائزمز یا بیماریوں کی دائمی (Chronic) اثرات وراثتی طور پر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو سکتے ہیں، جو ہنیمن کے اس نظریے سے ملتا ہے کہ سورا نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔

اینٹی باڈیز اور جینیاتی اثرات

جب اینٹی باڈیز یا تبدیل شدہ پروٹینز (Deformed Proteins) جسم میں زیادہ مقدار میں موجود ہوں، تو وہ ایسے ریگولیٹری اینزائمز (Regulatory Enzymes) سے جُڑ سکتے ہیں جو ڈی این اے کی ترکیب (DNA Synthesis) اور جین کے اظہار (Gene Expression) میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • اگر یہ اینٹی باڈیز ڈی این اے کے اظہار میں مداخلت کرتی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ جینیاتی مواد کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
  • یہی وہ نکتہ ہے جو مائزمز کے دائمی (Chronic) اثرات کو سائنسی طور پر وضاحت فراہم کرتا ہے۔

اینٹی باڈیز: بیماری کی وجہ یا دفاعی نظام؟

عام طور پر اینٹی باڈیز کو جسم کا دفاعی ہتھیار سمجھا جاتا ہے، لیکن جدید تحقیق بتاتی ہے کہ بعض صورتوں میں یہ خود بیماری کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

  1. چکن گونیا (Chikungunya) کے بعد دائمی درد
    • چکن گونیا کے انفیکشن کے بعد زندگی بھر رہنے والا درد اصل میں اینٹی باڈیز کی غلط مداخلت کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ کہ خود وائرس کی وجہ سے۔
  2. ویکسینیشن اور ویکسینوسس (Vaccinosis)
    • ویکسینیشن کے بعد بعض افراد میں غیر متوقع دائمی اثرات دیکھے گئے ہیں، جو دراصل اینٹی باڈیز کی غلط سرگرمیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
  3. اسٹریپٹوکوکس اینٹی باڈیز اور دل و گردے کی بیماریاں
    • اسٹریپٹوکوکس انفیکشن کے بعد اینٹی باڈیز بعض افراد میں دل اور گردوں کے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
  4. اینٹی باڈیز اور ذیابیطس (Diabetes)
    • تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ بعض اینٹی باڈیز لبلبے (Pancreas) پر حملہ کر کے ذیابیطس پیدا کر سکتی ہیں۔

مائزمز: اینٹی باڈیز کے ذریعے پیدا ہونے والی دائمی بیماریوں کی جھلک؟

ہنیمن نے مائزمز کو "دائمی بیماری کی کیفیات" (Chronic Disease Dispositions) کے طور پر بیان کیا، جو متعدی بیماریوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔

جدید سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے، تو یہ نظریہ اینٹی باڈیز کے غلط افعال کے ذریعے واضح ہو جاتا ہے، کیونکہ:

  • شدید (Acute) انفیکشن اینٹی باڈی ردعمل کو متحرک کرتا ہے۔
  • بعض اینٹی باڈیز مخصوص حیاتیاتی مالیکیولز سے جُڑ کر بے ترتیبی (Dysregulation) پیدا کرتی ہیں۔
  • یہی بے ترتیبی وقت کے ساتھ دائمی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، جو ہنیمن کے مائزمز کے نظریے سے مماثل ہے۔

  •  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm)

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm) ایک بنیادی تصور ہے جو بیماریوں کے گہرے اور جینیاتی رجحان (predisposition) کی وضاحت کرتا ہے۔  ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق، میازم وہ اندرونی خرابی یا وراثتی رجحان ہے جو کسی شخص کو مخصوص بیماریوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں میازم کی اقسام ہومیوپیتھی میں تین بنیادی میازم ہیں، جنہیں ڈاکٹر سیموئل ہینی مین (ہومیوپیتھی کے بانی) نے بیان کیا: سورک میازم (Psoric Miasm) یہ سب سے پرانا اور بنیادی میازم سمجھا جاتا ہے۔ علامات: خارش، جلدی بیماریاں، الرجی، دائمی کمزوری، اور نظامِ ہضم کی خرابیاں۔ اس کا تعلق عام طور پر کھجلی (Scabies) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Sulphur, Psorinum, Lycopodium, Graphites وغیرہ۔ سائکوٹک میازم (Sycotic Miasm) اس میازم کا تعلق زیادہ تر جسمانی بڑھوتری، رسولیوں، ورم اور گٹھیا (arthritis) جیسی بیماریوں سے ہے۔ علامات: موٹاپا، ہارمونز کی بے ترتیبی، جنسی مسائل، ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل۔ اس کا تعلق گونوریا (Gonorrhea) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Thuja, Medorrhinum, Natrum Sulph, Pulsatilla وغیرہ۔ سفیلٹک میازم (Syphilitic Miasm) یہ سب ...

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے

 https://www.facebook.com/share/p/1DSFVEsSgP/   کینسر ایک مزاجی بیماری ہے — ہومیوپیتھک فلسفے کی روشنی میں تحریر: ڈاکٹر سید محمد سراج ہومیوپیتھک فلسفہ بیماریوں کو صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی مجموعی کیفیت، اس کی مزاجی ساخت، نفسیاتی اور روحانی حالت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ہانیمن کے نزدیک بیماری صرف جسم میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک باطنی حیاتیاتی توانائی (vital force) کی بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم کینسر جیسے مہلک مرض کا جائزہ لیں، تو یہ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مزاجی خلل کا اظہار ہے۔ مزاجی بیماری کیا ہے؟ ہومیوپیتھی میں "مزاجی بیماری" (Miasmatic disease) وہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، یا جو انسان کی باطنی توانائی میں خرابی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ہانیمن نے تین بنیادی مزاجی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: سورا، سفلس، اور سائکو سس۔ ان تینوں میں سے کسی ایک یا ان کے امتزاج کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کینسر اور مزاجی بنیاد کینسر کی جڑیں ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق گہرے مزاجی نقائص میں پیوستہ ہیں،...

میازم‘ کی نئی تعریف

 ’ میازم‘ کی نئی تعریف ہومیوپیتھی میں ’دائمی امراض‘ کے فہم اور علاج کا بنیادی نظریہ ’میازم‘ کے تصور پر مبنی ہے۔ حنیمن نے تین بنیادی ’میازم‘ یعنی سورہ، سفلس اور سائیکوسس کی تفصیل فراہم کی۔ ’میازم‘ اور ’دائمی امراض‘ کا نظریہ حنیمن کی زندگی کے آخری حصے میں سامنے آیا، جب انہوں نے اپنے طبی تجربے سے یہ جانا کہ صرف ظاہری علامات کی بنیاد پر دوائی تجویز کرنے سے مریضوں کو مستقل فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ یہ محض عارضی آرام فراہم کرتا ہے۔ میازم کا مفہوم حنیمن کے ’دائمی امراض‘ کے نظریے کے مطابق، ’سورہ‘ یعنی دبے ہوئے خارش کے اثرات، ہر اس دائمی بیماری کی جڑ ہیں جو جنسی امراض (Venereal Diseases) سے متعلق نہ ہو۔ سورہ کو علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ دیگر دو میازم، سفلس اور سائیکوسس، بالترتیب سفلس اور سوزاک (gonorrhoea) جیسی بیماریوں سے جڑے ہیں۔ حنیمن کے مطابق، جب تک سورہ کو ’اینٹی سورک‘ دواؤں کے ذریعے ختم نہ کیا جائے، دائمی بیماریوں کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ سورہ کی ابتدائی علامات میں جلد پر خارش اور دانے شامل ہوتے ہیں، جبکہ سفلس میں ناسور اور جلد کی بگاڑ، اور سائیکوسس میں مسے اور چمڑے کی زائد ...