نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے،

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے ،  کیونکہ یہ علاج صرف علامات کو دبانے کے بجائے انسان کے ذہن، جسم اور جذبات تینوں پہلوؤں کو متوازن کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں علاج کا اصول یہ ہے کہ ہر مریض کو اس کی مکمل علامات، طبی تاریخ، مزاج اور طرزِ زندگی کے مطابق انفرادی دوا دی جاتی ہے، اس لیے یہ علاج گہری سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذہنی امراض جن میں ہومیوپیتھی مفید ہے: ڈپریشن (Depression) بے چینی اور خوف (Anxiety, Phobia) ماضی کے صدمے کے اثرات (Post-Traumatic Stress) یادداشت کی کمزوری نیند کے مسائل چڑچڑاپن، غصہ یا اداسی ہومیوپیتھی کے فائدے: قدرتی اور محفوظ – کوئی خطرناک سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔ گہرائی میں علاج – بیماری کی جڑ تک پہنچ کر شفا دیتی ہے۔ شخصیت میں مثبت تبدیلی – مریض کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔ طویل المدتی فائدہ – علامات واپس آنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اہم ہومیوپیتھک ادویات اور ان کے ذہنی امراض میں استعمال کی فہرست بھی دے سکتا ہوں، تاکہ ایک جامع ریفرنس بن جائے۔ Ask ChatG...

غصہ اور انسانی صحت پر اس کے مضر اثرات

 

غصہ اور انسانی صحت پر اس کے مضر اثرات

غصہ ایک قدرتی جذباتی ردِعمل ہے جو کسی ناخوشگوار یا غیر متوقع صورتحال کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ وقتی طور پر نارمل انسانی رویے کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن مسلسل یا زیادہ غصہ انسانی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ طبی ماہرین اور نفسیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، غصہ نہ صرف ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے بلکہ جسمانی صحت پر بھی سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

غصہ اور دل کی بیماریاں غصے کی حالت میں انسانی جسم میں ایڈرینالین اور کورٹیسول جیسے ہارمونز کا اخراج بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ مسلسل غصہ دل کی بیماریوں، ہائی بلڈ پریشر اور فالج (سٹروک) جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

دماغی صحت پر اثرات غصہ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا باعث بن سکتا ہے۔ مسلسل غصے میں رہنے والے افراد میں بے چینی، نیند کی کمی اور ذہنی اضطراب جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، زیادہ غصہ یادداشت کو کمزور کر سکتا ہے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

نظامِ ہاضمہ پر اثر غصہ معدے میں تیزابیت کو بڑھا سکتا ہے، جس کی وجہ سے معدے میں السر، تیزابیت، بدہضمی اور دیگر گیسٹرک مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جو لوگ زیادہ غصے میں رہتے ہیں، ان میں آنتوں کے مسائل کا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔

مدافعتی نظام پر اثرات مسلسل غصے کی حالت میں جسم کا مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے بیماریاں زیادہ جلدی حملہ آور ہو سکتی ہیں۔ غصے کے باعث جسم میں سوزش پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، جو کہ مختلف دائمی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔

سماجی اور نفسیاتی مسائل زیادہ غصہ سماجی تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ غصیلے افراد کے ساتھ رہنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، زیادہ غصہ ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں مسائل پیدا کر سکتا ہے اور انسان کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر سکتا ہے۔

غصے پر قابو پانے کے طریقے

  1. گہری سانس لینا: غصے کے وقت گہری سانس لینے سے اعصاب پرسکون ہو سکتے ہیں۔

  2. ورزش اور یوگا: ورزش کرنے سے جسم میں خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو غصے کو کم کر سکتے ہیں۔

  3. مثبت سوچ اپنانا: ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھنے سے غصہ کم ہو سکتا ہے۔

  4. ماف کرنے کی عادت: دوسروں کو معاف کرنا ذہنی سکون فراہم کرتا ہے اور غصے کو کم کرتا ہے۔

  5. گفتگو اور مشاورت: اپنے جذبات کسی قریبی دوست یا ماہر نفسیات سے شیئر کرنا غصے کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

نتیجہ غصہ ایک عام انسانی جذبہ ہے، لیکن اگر اسے قابو میں نہ رکھا جائے تو یہ جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اپنی زندگی میں صبر، برداشت اور مثبت سوچ کو اپنانا غصے کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm)

ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm) ایک بنیادی تصور ہے جو بیماریوں کے گہرے اور جینیاتی رجحان (predisposition) کی وضاحت کرتا ہے۔  ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق، میازم وہ اندرونی خرابی یا وراثتی رجحان ہے جو کسی شخص کو مخصوص بیماریوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں میازم کی اقسام ہومیوپیتھی میں تین بنیادی میازم ہیں، جنہیں ڈاکٹر سیموئل ہینی مین (ہومیوپیتھی کے بانی) نے بیان کیا: سورک میازم (Psoric Miasm) یہ سب سے پرانا اور بنیادی میازم سمجھا جاتا ہے۔ علامات: خارش، جلدی بیماریاں، الرجی، دائمی کمزوری، اور نظامِ ہضم کی خرابیاں۔ اس کا تعلق عام طور پر کھجلی (Scabies) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Sulphur, Psorinum, Lycopodium, Graphites وغیرہ۔ سائکوٹک میازم (Sycotic Miasm) اس میازم کا تعلق زیادہ تر جسمانی بڑھوتری، رسولیوں، ورم اور گٹھیا (arthritis) جیسی بیماریوں سے ہے۔ علامات: موٹاپا، ہارمونز کی بے ترتیبی، جنسی مسائل، ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل۔ اس کا تعلق گونوریا (Gonorrhea) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Thuja, Medorrhinum, Natrum Sulph, Pulsatilla وغیرہ۔ سفیلٹک میازم (Syphilitic Miasm) یہ سب ...

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے

 https://www.facebook.com/share/p/1DSFVEsSgP/   کینسر ایک مزاجی بیماری ہے — ہومیوپیتھک فلسفے کی روشنی میں تحریر: ڈاکٹر سید محمد سراج ہومیوپیتھک فلسفہ بیماریوں کو صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی مجموعی کیفیت، اس کی مزاجی ساخت، نفسیاتی اور روحانی حالت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ہانیمن کے نزدیک بیماری صرف جسم میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک باطنی حیاتیاتی توانائی (vital force) کی بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم کینسر جیسے مہلک مرض کا جائزہ لیں، تو یہ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مزاجی خلل کا اظہار ہے۔ مزاجی بیماری کیا ہے؟ ہومیوپیتھی میں "مزاجی بیماری" (Miasmatic disease) وہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، یا جو انسان کی باطنی توانائی میں خرابی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ہانیمن نے تین بنیادی مزاجی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: سورا، سفلس، اور سائکو سس۔ ان تینوں میں سے کسی ایک یا ان کے امتزاج کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کینسر اور مزاجی بنیاد کینسر کی جڑیں ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق گہرے مزاجی نقائص میں پیوستہ ہیں،...

میازم‘ کی نئی تعریف

 ’ میازم‘ کی نئی تعریف ہومیوپیتھی میں ’دائمی امراض‘ کے فہم اور علاج کا بنیادی نظریہ ’میازم‘ کے تصور پر مبنی ہے۔ حنیمن نے تین بنیادی ’میازم‘ یعنی سورہ، سفلس اور سائیکوسس کی تفصیل فراہم کی۔ ’میازم‘ اور ’دائمی امراض‘ کا نظریہ حنیمن کی زندگی کے آخری حصے میں سامنے آیا، جب انہوں نے اپنے طبی تجربے سے یہ جانا کہ صرف ظاہری علامات کی بنیاد پر دوائی تجویز کرنے سے مریضوں کو مستقل فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ یہ محض عارضی آرام فراہم کرتا ہے۔ میازم کا مفہوم حنیمن کے ’دائمی امراض‘ کے نظریے کے مطابق، ’سورہ‘ یعنی دبے ہوئے خارش کے اثرات، ہر اس دائمی بیماری کی جڑ ہیں جو جنسی امراض (Venereal Diseases) سے متعلق نہ ہو۔ سورہ کو علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ دیگر دو میازم، سفلس اور سائیکوسس، بالترتیب سفلس اور سوزاک (gonorrhoea) جیسی بیماریوں سے جڑے ہیں۔ حنیمن کے مطابق، جب تک سورہ کو ’اینٹی سورک‘ دواؤں کے ذریعے ختم نہ کیا جائے، دائمی بیماریوں کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ سورہ کی ابتدائی علامات میں جلد پر خارش اور دانے شامل ہوتے ہیں، جبکہ سفلس میں ناسور اور جلد کی بگاڑ، اور سائیکوسس میں مسے اور چمڑے کی زائد ...