نیند ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اگر کوئی فرد مستقل طور پر نیند کی کمی کا شکار ہو، تو اس کے منفی اثرات پوری زندگی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیند کی کمی سے دل کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، اور دماغی مسائل جیسے ڈپریشن اور اینزائٹی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اچھی نیند کے فوائد
1. دماغی کارکردگی میں بہتری – نیند یادداشت کو مضبوط کرتی ہے اور سیکھنے کی صلاحیت بڑھاتی ہے۔
2. مدافعتی نظام کی مضبوطی – اچھی نیند جسم کو بیماریوں سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔
3. دل کی صحت میں بہتری – نیند کی کمی دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتی ہے۔
4. موڈ بہتر ہوتا ہے – نیند پوری ہو تو مزاج خوشگوار رہتا ہے، اور ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔
5. وزن کنٹرول میں مدد – نیند کی کمی میٹابولزم کو متاثر کر کے موٹاپے کا سبب بن سکتی ہے۔
اچھی نیند کے لیے ضروری عادات
سونے اور جاگنے کا ایک مقررہ وقت رکھیں تاکہ جسمانی گھڑی (بیالوجیکل کلاک) درست رہے۔
سونے سے پہلے اسکرین (موبائل، کمپیوٹر) کا استعمال کم کریں کیونکہ ان کی نیلی روشنی نیند کے ہارمون Melatonin کو متاثر کرتی ہے۔
رات کے وقت کیفین (چائے، کافی) اور بھاری کھانے سے پرہیز کریں تاکہ نیند بہتر ہو۔
پرسکون اور اندھیرے والا ماحول بنائیں تاکہ نیند جلد آئے اور گہری ہو۔
ورزش کو معمول بنائیں لیکن سونے سے کچھ دیر پہلے زیادہ سخت ورزش نہ کریں۔
نیند کی کمی کی علامات
دن میں تھکن اور غنودگی محسوس ہونا
توجہ مرکوز کرنے میں دشواری
چڑچڑاپن اور مزاج میں اتار چڑھاؤ
قوتِ مدافعت میں کمی
جلدی بیمار ہونا
اگر کوئی شخص مستقل نیند کی کمی کا شکار ہو، تو اسے اپنی نیند کی روٹین پر توجہ دینی چاہیے اور اگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہوگا۔
ہومیوپیتھی میں میازم (Miasm) ایک بنیادی تصور ہے جو بیماریوں کے گہرے اور جینیاتی رجحان (predisposition) کی وضاحت کرتا ہے۔ ہومیوپیتھک نظریہ کے مطابق، میازم وہ اندرونی خرابی یا وراثتی رجحان ہے جو کسی شخص کو مخصوص بیماریوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں میازم کی اقسام ہومیوپیتھی میں تین بنیادی میازم ہیں، جنہیں ڈاکٹر سیموئل ہینی مین (ہومیوپیتھی کے بانی) نے بیان کیا: سورک میازم (Psoric Miasm) یہ سب سے پرانا اور بنیادی میازم سمجھا جاتا ہے۔ علامات: خارش، جلدی بیماریاں، الرجی، دائمی کمزوری، اور نظامِ ہضم کی خرابیاں۔ اس کا تعلق عام طور پر کھجلی (Scabies) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Sulphur, Psorinum, Lycopodium, Graphites وغیرہ۔ سائکوٹک میازم (Sycotic Miasm) اس میازم کا تعلق زیادہ تر جسمانی بڑھوتری، رسولیوں، ورم اور گٹھیا (arthritis) جیسی بیماریوں سے ہے۔ علامات: موٹاپا، ہارمونز کی بے ترتیبی، جنسی مسائل، ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل۔ اس کا تعلق گونوریا (Gonorrhea) سے جوڑا جاتا ہے۔ دوائیں: Thuja, Medorrhinum, Natrum Sulph, Pulsatilla وغیرہ۔ سفیلٹک میازم (Syphilitic Miasm) یہ سب ...

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں