نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

مئی, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے،

ہومیوپیتھی میں ذہنی امراض کا بہترین اور محفوظ علاج موجود ہے ،  کیونکہ یہ علاج صرف علامات کو دبانے کے بجائے انسان کے ذہن، جسم اور جذبات تینوں پہلوؤں کو متوازن کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں علاج کا اصول یہ ہے کہ ہر مریض کو اس کی مکمل علامات، طبی تاریخ، مزاج اور طرزِ زندگی کے مطابق انفرادی دوا دی جاتی ہے، اس لیے یہ علاج گہری سطح پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ذہنی امراض جن میں ہومیوپیتھی مفید ہے: ڈپریشن (Depression) بے چینی اور خوف (Anxiety, Phobia) ماضی کے صدمے کے اثرات (Post-Traumatic Stress) یادداشت کی کمزوری نیند کے مسائل چڑچڑاپن، غصہ یا اداسی ہومیوپیتھی کے فائدے: قدرتی اور محفوظ – کوئی خطرناک سائیڈ ایفیکٹ نہیں۔ گہرائی میں علاج – بیماری کی جڑ تک پہنچ کر شفا دیتی ہے۔ شخصیت میں مثبت تبدیلی – مریض کو ذہنی سکون اور اعتماد فراہم کرتی ہے۔ طویل المدتی فائدہ – علامات واپس آنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اہم ہومیوپیتھک ادویات اور ان کے ذہنی امراض میں استعمال کی فہرست بھی دے سکتا ہوں، تاکہ ایک جامع ریفرنس بن جائے۔ Ask ChatG...

کینسر ایک مزاجی بیماری ہے

 https://www.facebook.com/share/p/1DSFVEsSgP/   کینسر ایک مزاجی بیماری ہے — ہومیوپیتھک فلسفے کی روشنی میں تحریر: ڈاکٹر سید محمد سراج ہومیوپیتھک فلسفہ بیماریوں کو صرف جسمانی علامات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ انسان کی مجموعی کیفیت، اس کی مزاجی ساخت، نفسیاتی اور روحانی حالت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ہانیمن کے نزدیک بیماری صرف جسم میں پیدا ہونے والی کوئی خرابی نہیں، بلکہ ایک باطنی حیاتیاتی توانائی (vital force) کی بے ترتیبی کا نتیجہ ہے۔ اسی تناظر میں اگر ہم کینسر جیسے مہلک مرض کا جائزہ لیں، تو یہ محض ایک جسمانی عارضہ نہیں، بلکہ ایک گہرے مزاجی خلل کا اظہار ہے۔ مزاجی بیماری کیا ہے؟ ہومیوپیتھی میں "مزاجی بیماری" (Miasmatic disease) وہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتی ہے، یا جو انسان کی باطنی توانائی میں خرابی کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ ہانیمن نے تین بنیادی مزاجی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: سورا، سفلس، اور سائکو سس۔ ان تینوں میں سے کسی ایک یا ان کے امتزاج کے ذریعے مختلف بیماریوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ کینسر اور مزاجی بنیاد کینسر کی جڑیں ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق گہرے مزاجی نقائص میں پیوستہ ہیں،...

ایک استاد کی ذمہ داریاں

  ایک استاد کی ذمہ داریاں استاد معاشرے کا وہ اہم ستون ہوتا ہے جس پر ایک قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔ استاد صرف علم دینے والا نہیں ہوتا بلکہ کردار سازی، تربیت اور اخلاقی اقدار کے فروغ کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتا ہے اور خلوصِ نیت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ سب سے پہلی اور اہم ذمہ داری استاد کی یہ ہے کہ وہ طلباء کو علم دے، نہ صرف نصابی بلکہ غیر نصابی علم بھی۔ وہ طلباء کو سوچنے، سوال کرنے اور سیکھنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ استاد کا فرض ہے کہ وہ ہر بچے کو یکساں توجہ دے، چاہے وہ ذہین ہو یا کمزور، اور اس کی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے نکھارے۔ دوسری بڑی ذمہ داری استاد کی تربیت ہے۔ علم کے ساتھ ساتھ کردار کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ استاد کو چاہیے کہ خود بھی سچائی، ایمانداری، صبر، برداشت اور وقت کی پابندی کا عملی نمونہ بنے تاکہ طلباء اس سے متاثر ہو کر ان اوصاف کو اپنائیں۔ تیسری اہم ذمہ داری یہ ہے کہ استاد ایک ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرے جو سیکھنے کے لیے سازگار ہو۔ وہ طلباء کو حوصلہ دے، ان کے سوالات کو سنجیدگی سے لے، اور ان کی رہنمائی کرے تاکہ و...