اشاعتیں

جولائی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مادہ، انرجی اور ہومیوپیتھی کا فلسفۂ علاج

تصویر
  مادہ، انرجی اور ہومیوپیتھی کا فلسفۂ علاج دنیا میں طب کے دو بنیادی زاویے پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان کو صرف گوشت، ہڈی، خون اور کیمیائی مادّوں کا مجموعہ سمجھتا ہے، اور دوسرا وہ جو انسان کو ایک زندہ، متحرک اور منظم قوت کے زیرِ اثر چلنے والا وجود قرار دیتا ہے۔ ہومیوپیتھی دوسرے زاویۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہے۔ مادہ کیا ہے؟ جدید طبیعیات نے یہ حقیقت سامنے رکھی کہ مادہ اور توانائی (Energy) میں گہرا تعلق موجود ہے۔ آئن اسٹائن کے مشہور مساوات E = mc² نے واضح کیا کہ مادہ اور توانائی ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ اس تصور نے یہ سوچ پیدا کی کہ کائنات کی ہر مادی چیز کے پیچھے توانائی کی ایک گہری حقیقت کارفرما ہے۔ ہومیوپیتھی اگرچہ طبیعیات کی زبان استعمال نہیں کرتی، لیکن وہ انسان کو بنیادی طور پر ایک زندہ متحرک نظام سمجھتی ہے، جسے Vital Force یا حیاتی قوت منظم کرتی ہے۔ جسم ایک اسکرین کی مانند ہومیوپیتھی کے مطابق جسم پر ظاہر ہونے والی بیماریاں اصل بیماری نہیں ہوتیں بلکہ اندرونی بے ترتیبی کی ظاہری تصویر ہوتی ہیں۔ اس تصور کو ایک ٹیلی ویژن اسکرین سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر اسکرین ...